آپ مجھ کو نہ کسی اور بہانے پہ رکھیں
بات دل کی، مِرے دل کے ہی نشانے پہ رکھیں
پہلے تو وصل کی ہر بات گنی پوروں پر
پھر کہا ہجر نے شعروں میں سنانے پہ رکھیں
مُدعا میں نے کہا دل کا، تو ہنس کر بولے
آپ کچھ ہوش و حواس اپنے ٹھکانے پہ رکھیں
چشمِ قاتل سے بھلا رحم کی درخواست ہی کیوں
جن کو مرنا ہو نظر خاک بچانے پہ رکھیں
ہائے وہ مہندی جو دُلہن پہ نہیں لائی رنگ
ہائے وہ کرب جو دل اپنے دہانے پہ رکھیں
کوئی اُلجھن بنے اکرام کبھی اُن پر بھی
سر وہ اپنا کبھی آ کر مِرے شانے پہ رکھیں
اکرام قاسمی
No comments:
Post a Comment