صفحات

Wednesday, 5 May 2021

ظلمت کا یہ طویل سفر آخری نہ ہو

 ظُلمت کا یہ طویل سفر آخری نہ ہو 

اس پار تیرگی کے کہیں روشنی نہ ہو

دونوں طرف کا پاس کرایہ تو رکھ لیا 

دل ہے وہاں سے اپنی کبھی واپسی نہ ہو

کر کر کے تھک گئی ہے اشارے ہماری آنکھ

واللّہ کوئی آپ سا کم فہم بھی نہ ہو

بچنا ہے ہم کو عشق سے پر بچ نہیں رہے

ہم کو ہماری موت ہی للکارتی نہ ہو

کرتے ہیں پیش ناز سے دُشنام اور پھر

کہتے ہیں پیشکش یہ کہیں آخری نہ ہو

بارش ہوئی تو اپنا بدن ٹُوٹنے لگا

اتنا بھی اب وجود شفق کاغذی نہ ہو


عائشہ شفق

No comments:

Post a Comment