صفحات

Sunday, 2 May 2021

رسم دنیا ہی نبھا دیتا، نبھانے والا

 رسمِ دنیا ہی نبھا دیتا، نبھانے والا

اب کوئی دوست نہیں ہاتھ ملانے والا

کوئی دیتا ہے جو دستک تو گماں ہوتا ہے

ملک الموت نہ ہو آج یہ آنے والا

کیا ڈریں غیر سے، اللہ سے ڈرنے والے

کامراں ہو نہ سکا کوئی ڈرانے والا

دور سے فون پہ کر لیتا ہے پرسش میری

بستر مرگ کے نزدیک نہ آنے والا

موت سے پہلے دکھا دیتا وہ جلوہ اپنا

دل دکھائے گا مِری جان جلانے والا

خشک آنکھوں کی تمنا ہے دکھی دل کوئی

آج آ جائے مِرے پاس رلانے والا

جانے کیوں ہو گیا یک لخت وہ پابند نقاب

ساری دنیا کو حسیں چہرہ دکھانے والا

اس کو دشمن نہ کہو، یار سے جوڑا اس نے

میرا محسن ہے مجھے یاد دلانے والا

اس کے لشکر ہیں بہت، بات یہ سمجھے وہ بھی

برق انسان پہ انسان گرانے والا

سرد ہنگامۂ ہستی ہے جہاں میں چشتی

کیا نیا دور ہے اب غیب سے آنے والا


خلیل چشتی

No comments:

Post a Comment