صفحات

Wednesday, 5 May 2021

آگ سے آگ بجھانے کا ہنر سیکھ لیا

 آگ سے آگ بجھانے کا ہُنر سیکھ لیا 

زخم نے درد چھُپانے کا ہنر سیکھ لیا

اور کیا سیکھتے اے قافلۂ خُوش گُزراں

گرد اپنی ہی اُڑانے کا ہنر سیکھ لیا

تیز کر دی گئی رفتار ہماری بھی، مگر

ہم نے آنے کا نہ جانے کا ہنر سیکھ لیا

کون ہم گوشہ نشینوں سے کرے گفت و شنید 

ہم نے سننے نہ سنانے کا ہنر سیکھ لیا

بعد کھونے کے ہے پانے کا مزہ خوب مگر 

ہم نے کھونے کا نہ پانے کا ہنر سیکھ لیا

ہم نے اس شہرِ عجائب کے دبستانوں سے 

پردۂ غیب اٹھانے کا ہنر سیکھ لیا

خوفِ شمشیر تھا یا گرمئ پہلوے بُتاں 

جاگنے کا نہ جگانے کا ہنر سیکھ لیا

صاحبو! دشمنوں نے معتمدوں سے میرے

دودھ میں زہر ملانے کا ہنر سیکھ لیا

خون آنکھوں سے مِری بہنے لگا جب میں نے

ناؤ کاغذ کی بنانے کا ہنر سیکھ لیا


شفق سوپوری

No comments:

Post a Comment