صفحات

Sunday, 2 May 2021

یوں شر نا بناؤ دوستو

 یوں شر نا بناؤ دوستو 

عشق کر کے نبھاؤ دوستو 

یہ جو تمہیں آزماتے ہیں 

انہیں بھی آزماؤ دوستو 

یہ سب تو پرانی باتیں ہیں 

کچھ اور بھی بتاؤ دوستو 

میں عشق کے ہاتھوں مر چکا 

مجھے مار کے دکھاؤ دوستو 

اب اس کے شہر بھی لے چلو 

اِدھر اُدھر نا گھماؤ دوستو 


دانیال رند

No comments:

Post a Comment