صفحات

Friday, 21 May 2021

تنہائی سے بچاؤ کی صورت نہیں کروں

 تنہائی سے بچاؤ کی صورت نہیں کروں

مر جاؤں کیا کسی سے محبت نہیں کروں

سُوئے فلک ہوائی سفر ہے تو کیا ہُوا

ڈر جاؤں ماہتاب کی صورت نہیں کروں

آنکھیں ہیں یا شراب کے ساغر بھرے ہوئے

پی جاؤں کیا خیال شریعت نہیں کروں

قبضے میں ان کے شہر طلسمات ہی سہی

کھو جاؤں کیا خدا کی عبادت نہیں کروں

جب طے ہوا کہ روشنی پروردگار ہے

پہلو بچاؤں اس کی اطاعت نہیں کروں

بزم سخن طراز میں ناکام ہوں تو کیا

چلاؤں اپنے فن کی حفاظت نہیں کروں

وہ آ گیا کمال کی قیمت کے آس پاس

بک جاؤں اپنے سچ کی حفاظت نہیں کروں


احمد کمال پروازی

No comments:

Post a Comment