صفحات

Thursday, 20 May 2021

اس بزم تصور میں بس یار کی باتیں ہیں

 اس بزم تصور میں بس یار کی باتیں ہیں

مژگاں کے قصیدے ہیں رخسار کی باتیں ہیں

ہونٹوں کے دریچوں پر دلدار کی باتیں ہیں

پردہ بھی ہے پردے میں دیدار کی باتیں ہیں

اظہار محبت کا انداز نرالا ہے

انکار کے لہجے میں اقرار کی باتیں ہیں

دن رات تصور میں تصویر تمہاری ہے

اس پار کی دنیا میں اس پار کی باتیں ہیں

یوں کیف نمایاں ہے غزلوں میں مری جیسے

آفاق کی وسعت میں فن کار کی باتیں ہیں

آنکھوں کو مری پڑھ کر ساقی نے کہا ہنس کر

ایقان ذرا مشکل مے خوار کی باتیں ہیں

یہ عشق تمہیں ذاکر کس موڑ پہ لے آیا

زنجیر ہے پیروں میں جھنکار کی باتیں ہیں


ذاکر خان

No comments:

Post a Comment