صفحات

Tuesday, 22 June 2021

عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا

 عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا

تُو کبھی دشت میں آئے گا تو چھا جائے گا

بات سے بات گھمانے پہ تجھے داد ملی

پھر تو تُو شعر سنائے گا تو چھا جائے گا

رقص فرقت میں کروں گا تو کیے جاؤں گا

ابر وحشت کا جو چھائے گا تو چھا جائے گا

وصل میں جان سے جائے گا تو مر جائے گا

ہجر میں جان سے جائے گا تو چھا جائے گا

آنکھ میں خواب رچانے کی نہیں ہے قیمت

آنکھ میں خواب رچائے گا تو چھا جائے گا


عاجز کمال

No comments:

Post a Comment