رات جس وقت سو رہی تھی کہیں
کچھ نئی بات ہو رہی تھی کہیں
تشنگی تھی ہمارے ہونٹوں پر
اور برسات ہو رہی تھی کہیں
صحنِ زنداں میں ایک تنہا رات
یونہی خاموش رو رہی تھی کہیں
سج رہی تھی شفق کسی جانب
اور اک رات ہو رہی تھی کہیں
جشن برپا تھا دل کے کوچوں میں
رات چپ چاپ سو رہی تھی کہیں
جگدیش پرکاش
No comments:
Post a Comment