صفحات

Tuesday, 1 June 2021

زلف پیچاں آشکارا بام پر اس نے کیا

 زلفِ پیچاں آشکارا بام پر اس نے کیا

مجھ کو اپنے آپ سے کل بے خبر اس نے کیا

بزمِ الفت میں بلا کر بے قدر اس نے کیا

جو کبھی سوچا نہ تھا وہ کل مگر اس نے کیا

آشنا اس راز سے اب تک ہوا یا رب نہیں

کیا مقدر نے مجھے یا در بہ در اس نے کیا

دل جلانے کے لیے مجھ کو بلا کر غیر کا

نام مہندی سے رقم خود ہاتھ پر اس نے کیا

میں پشیماں جب ہوا اپنی خطاؤں پر بہت

دیکھ کر مری نگاہیں در گزر اس نے کیا

میں جس سے اپنا سمجھ کرہر خوشی دیتا رہا

وار چپکے سے مری ہی جان پر اس نے کیا

حیف صد افسوس دشمن پر کرو عارف سبھی

قتل سے توبہ مرا سر کاٹ کر اس نے کیا


جاوید عارف

No comments:

Post a Comment