صفحات

Wednesday, 2 June 2021

ہیں کھنڈر میں کمال کی اینٹیں

 ہیں کھنڈر میں کمال کی اینٹیں

دیکھ عہدِ زوال کی اینٹیں

مقبرے ہوں کہ سانس لیتے گھر

ہیں یہ خواب و خیال کی اینٹیں

کرے مجنوں خطاب دنیا سے

پھینکتا ہے سوال کی اینٹیں

تن ہے دیوارِ گریہ کے مانند

لال آنکھیں، ملال کی اینٹیں

ہاتھ سے پیٹتا ہوں زانو کو

میں نے ڈھالی ہیں کھال کی اینٹیں

ہے یہ تھیٹر گزرتی دنیا کا

ہم تو ہیں ماہ و سال کی اینٹیں

گاڑ کر خاک میں تنِ مردہ

جوڑتا ہوں وصال کی اینٹیں


رفیق اظہر

No comments:

Post a Comment