اے خدا! اس گھڑی کون سمجھے
کہ برگد کے بوڑھے درختوں کی لاچاریاں
جب پہنچتی ہیں پنگھٹ پہ پچھلے پہر
پانی بھرنے کو گاؤں کی پنہاریاں
یہ جو پگڈنڈیاں ہیں بدل جائیں گی
دیکھتے دیکھتے سُرمئی روڈ میں
میرے گاؤں کے بچوں کے سپنوں کو
لے کر چلیں گی یہاں اجنبی لاریاں
سانس روکے ہوئے آئینے کی طرح
رو برو دیکھنا باعثِ رشک ہے، ہاں
مگر وصل کے کیف و کم کو سمجھنے
میں پھر بھی رہیں لاکھ دشواریاں
میری بستی کے باہر لگی چھتریوں پر
بدیشی کبوتر اُترنے لگے، چاندنی
آنگنوں میں سیہ ہو گئی، اور
بدلنے لگیں سوگ کی باریاں
شام کے جنگوں میں دِیا کیا جلا
کچکچانے لگے دانت
چمگادڑیں، جن درختوں نے دی
روشنی کو پنہ، ان پہ اک ایک
کر کے چلیں آریاں
علی صابر رضوی
No comments:
Post a Comment