صفحات

Tuesday, 22 June 2021

ستم ہے اپنا کسی نے بنا کے لوٹ لیا

 ستم ہے اپنا کسی نے بنا کے لُوٹ لیا

مِری نظر سے نظر کو ملا کے لوٹ لیا

حریم ناز کے پردے میں جو نہاں تھا کبھی

اسی نے شوخ ادائیں دکھا کے لوٹ لیا

رہا نہ ہوش مجھے اس کے بعد پھر کچھ بھی

کی جب کسی نے مقابل میں آ کے لوٹ لیا

عجیب ناز سے اُلٹی نقابِ رُخ اس نے

کی مجھ کو رُوح منور دکھا کے لوٹ لیا

لو ہم بھی آج تو تاباں فریب کھا بیٹھے

کسی نے یوں ہی محبت سے جا کے لوٹ لیا


انور تاباں

No comments:

Post a Comment