صفحات

Tuesday, 22 June 2021

یہ جو مہیا وصل کا سامان کر دیا

 یہ جو مہیا وصل کا سامان کر دیا

تم نے تو میرے ہجر کا نقصان کر دیا

قائم نہیں رہا وہ کسی ایک بات پر

مشکل بنا کے راستہ آسان کر دیا

بے وقت اس طرح کی نوازش کا کیا جواز

مجھ کو تِری وفا نے پریشان کر دیا

ہم ہارنے کے شوق میں آئے تھے جنگ میں

کس نے ہماری جیت کا اعلان کر دیا

ہم بے یقین لوگ بھی کرنے لگے یقین

ظاہر کسی نے ہم پہ وہ امکان کر دیا

جیسے ابھی ابھی کا تعلق ہو تیرے ساتھ

تُو نے تو ایک پل میں ہی مہمان کر دیا

اس کو حیا خدا نے دیا حسن بے حساب

پھر تِل بنا کے اس پہ نگہبان کر دیا


حیاء غزل

No comments:

Post a Comment