یہ جو مہیا وصل کا سامان کر دیا
تم نے تو میرے ہجر کا نقصان کر دیا
قائم نہیں رہا وہ کسی ایک بات پر
مشکل بنا کے راستہ آسان کر دیا
بے وقت اس طرح کی نوازش کا کیا جواز
مجھ کو تِری وفا نے پریشان کر دیا
ہم ہارنے کے شوق میں آئے تھے جنگ میں
کس نے ہماری جیت کا اعلان کر دیا
ہم بے یقین لوگ بھی کرنے لگے یقین
ظاہر کسی نے ہم پہ وہ امکان کر دیا
جیسے ابھی ابھی کا تعلق ہو تیرے ساتھ
تُو نے تو ایک پل میں ہی مہمان کر دیا
اس کو حیا خدا نے دیا حسن بے حساب
پھر تِل بنا کے اس پہ نگہبان کر دیا
حیاء غزل
No comments:
Post a Comment