مان لو تم بھی یار اندھا ہے
میں تو کہتا ہوں پیار اندھا ہے
پھول بھی دیکھ کر ہیں حیرت میں
تم پہ آیا نکھار اندھا ہے
حسن دیکھا نہ تم نے پہلے کبھی
سامنے دیکھ یار اندھا ہے؟
راستے عشق سے جدا کر لے
جا چلا جا یہ غار اندھا ہے
چھت کا ہونا بھی ایک نعمت ہے
آسماں پر غبار اندھا ہے
بچ کے رہنا حسین قاتل سے
دیکھ کرتا یہ وار اندھا ہے
خود ہے محروم جو بصیرت سے
مجھ کو کرتا شمار اندھا ہے
اس نے دیکھی نہیں غریبی کبھی
یہ مِرا رشتہ دار اندھا ہے
دل نہ شہزاد توڑ دینا کہیں
تم پہ اب انحصار اندھا ہے
شہزاد جاوید
No comments:
Post a Comment