صفحات

Wednesday, 2 June 2021

جب تو مجھ سے روٹھ گیا تھا

 جب تُو مجھ سے رُوٹھ گیا تھا

دل آنگن میں سناٹا تھا

تُو کیا جانے تجھ سے بچھڑ کر

میں کتنے دن تک رویا تھا

ساری خُوشیاں رُوٹھ گئی تھیں

ارمانوں نے دم توڑا تھا

رستہ رستہ، نگری نگری

دل تجھ کو ہی ڈُھونڈھ رہا تھا

تنہائی کی فصل اُگی تھی

یادوں کا جنگل پھیلا تھا

فکر کے ہونٹوں پر تالے تھے

غزلوں کا دامن سُونا تھا


سلیمان خمار

No comments:

Post a Comment