صفحات

Wednesday, 16 June 2021

دشمن سے اتحاد کے چکر میں پڑ گیا

 دشمن سے اتحاد کے چکر میں پڑ گیا

ہر دوست اب مفاد کے چکر میں پڑ گیا

تھوڑی جگہ ملی جو کسی کاخِ حُسن میں

دل ساری جائیداد کے چکر میں پڑ گیا

کرتا رہا گریز جو اک عمر وصل سے

اب لمس کے سواد کے چکر میں پڑ گیا

اک حُسنِ شاندار پہ کامل غزل کے بعد

شاعر نئے مواد کے چکر میں پڑ گیا

یکسانیت چھلکنے لگی اس کے شعر سے

جو شخص انفراد کے چکر میں پڑ گیا

پٹی تعصبات کی باندھی جو غیر نے

اپنوں سے ہی جہاد کے چکر میں پڑ گیا

اچھے سخن کا لطف نہیں لے سکا قمر

نقاد جب عناد کے چکر میں پڑ گیا 


قمر آسی

No comments:

Post a Comment