میں ضائع ہونے سے بچ گئی تو تمہیں ملوں گی
میں رائیگانی کشید کرنے سے پیشتر تم کو مل گئی تو
وہ سارے بوسے جو جسم کُٹیا کے جالے بننے سے بچ گئے ہیں
تمہارے ہونٹوں کو سونپ دوں گی
میں اپنی آنکھوں کے سارے منظر کہ جن میں پھولوں سے گفتگو تھی
تمہارے ہاتھوں کی سرخ پوروں پہ لا دھروں گی
وہ سارے لمحے جنہیں سہولت سے زندگی میں شمار ہونے کا حق ملا ہو
تمہاری چوکھٹ کو بخش دوں گی
ابھی جدائی کی گرد جسموں کی الجھنوں کو بڑھا رہی ہے
ابھی سفر کو طویل ہجرت کا گھُن لگا ہے
ابھی اُداسی کی زُلف شانوں پہ رات کرنے میں محو ہے
اور، ابھی محبت کی ساری لذّت سے آشنائی نہیں ہوئی ہے
ابھی گزشتہ تمام زخموں کے سبز ہونے کا ڈر بہت ہے
میں ان کی زد سے نکل گئی تو تمہارے کاندھے سے آ لگوں گی
میں ضائع ہونے سے بچ گئی تو تمہیں ملوں گی
مقدس ملک
No comments:
Post a Comment