صفحات

Tuesday, 1 June 2021

یہ تو ہونا ہی ہے کبھو نہ کبھو

 یہ تو ہونا ہی ہے کبھو نہ کبھو

پہلے میں چل بسوں کہ پہلے تُو

گوندھی جائے گی پھر تِری مٹی

پھر کسی چاک پر چڑھے گا تُو

دوستی، دشمنی کے سنگ پلے

ہائے یہ اختلاف کے پہلو

سر پہ گزرے گی دلّی کی بپتا

میر صاحب بہائیں گے آنسو

غم و لالچ کے درمیاں آ کر

کوئی غالب لکھے گا دستنبُو

جا! نہیں مانتے اہنسا کو

مار ڈالا ہے قوم نے باپو

انگلیوں سے جدا کیے ناخن

پڑ گیا نام اجل کا گستاپو

کوئی منصف مجھے تلاش کرے

میں نے چہرے پہ مل لیا ہے لہو

کوئی مارا گیا کہ آپ مرا

چھوڑنا ہے جہانِ رنگ و بُو

کارخانۂ ہُو میں بیٹھا ہے

کافیاں بولتا کوئی باہُو

دیکھ مینار یہ سروں کا ہے

وقت کے جبر سے مگر ڈر تُو


رفیق اظہر

No comments:

Post a Comment