صفحات

Tuesday, 22 June 2021

جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہے

 جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہے

لبوں سے نغمۂ صلِ علیٰ نکلتا ہے

محبتوں کا عجب شہر ہے مدینہ بھی

ہر ایک شخص جہاں آشنا نکلتا ہے

حرم میں ہوتا ہے ایسا گداز کا عالم

جہاں پہ اشک برنگِ دعا نکلتا ہے

طلسم خانۂ قدرت ہے شہرِ محبوبی

ہر ایک گام پر منظر نیا نکلتا ہے

نگاہِ شوق کو ملتا ہے اذنِ گویائی

خموشیوں میں بھی اک مُدعا نکلتا ہے

اسی زمینِ مقدس سے سارے عالم میں

کرم کا، جُود کا، اک سلسلہ نکلتا ہے

بکھیر دیتا ہے قرطاس پر گُہر پارے

قلم سے جب مِرے حرفِ ثنا نکلتا ہے


حافظ لدھیانوی

No comments:

Post a Comment