صفحات

Tuesday, 1 June 2021

ہم ہجر کے رستوں کی ہوا دیکھ رہے ہیں

 ہم ہجر کے رستوں کی ہوا دیکھ رہے ہیں

منزل سے پرے دشت بلا دیکھ رہے ہیں

اس شہر میں احساس کی دیوی نہیں رہتی

ہر شخص کے چہرے کو نیا دیکھ رہے ہیں

انکار بھی کرنے کا بہانہ نہیں ملتا

اقرار بھی کرنے کا مزا دیکھ رہے ہیں

تو ہے بھی نہیں اور نکلتا بھی نہیں ہے

ہم خود کو رگ جاں کے سوا دیکھ رہے ہیں

کچھ کہہ کے گزر جائے گا اس بار زمانہ

ہم اس کے تبسم کی صدا دیکھ رہے ہیں


تالیف حیدر

No comments:

Post a Comment