آدھے چاند سے باتیں کرتی ہو
اے پگلی
آدھے چاند سے کیا کہتی ہو
آدھی باتیں کیوں کرتی ہو
مدہم سی مُسکان سجائے
کاسنی آنچل سر پر اوڑھے
سرد ہواؤں کے ہاتھوں تم
کیا سندیسہ پہنچاتی ہو
لفظوں میں یہ چُھپی خراشیں
تم کیوں ایسے دُہراتی ہو
اپنی رُوح کی دیواروں پر
کیا کیا تم
لکھتی رہتی ہو
اپنا سایہ دیکھ کے اس پر
پھر کیوں ڈر سی جاتی ہو
اے پگلی
بس یہ تو بتاؤ
آدھے آدھے ان اشکوں سے
سر رکھ کر تکیے پر اپنے
کیوں تم ایسے کھو جاتی ہو
اور پھر جیسے
دھیرے دھیرے اپنے من میں
گیت ادھورے دُہراتی ہو
کیا کرتی ہو
کافی کا کپ ہاتھ میں لے کر
کس کے لیے پھر رکھ دیتی ہو
کن خوابوں میں کھو جاتی ہو
سنو! ذرا تم
بِیتی رُت کے غم نہ کرنا
سب کچھ بُھول کے اب سو جاؤ
وقت سے پہلے ہی سو جاؤ
وقت سے پہلے ہی سو جاؤ
شہناز نقوی
No comments:
Post a Comment