صفحات

Saturday, 24 July 2021

اچھا برا تھا وقت جو تحریر کر لیا

 اچھا بُرا تھا وقت جو تحریر کر لیا

چاہا تو پھر غزل میں بھی تصویر کر لیا

وہ دلنشین چل رہی تھی تمکنت کے ساتھ

دیکھا مجھے تو چال کو تغیِیر کر لیا

نظروں کے تیر میں تھے وہ ابرو کمان کش

چپ چاپ میں نے دل بہ ہدف تیر کر لیا

کہنے لگی کہ چاند بھی جھومر ہے عرش کا

میں نے کہا کہ شعر میں تحریر کر لیا

میں نے کہا کہ ساتھ ہو اور عمر بھر کا ہو

پھر اُس نے وعدہ عمر کی زنجیر کر لیا

بڑھ کر گلے لگا لیا تھا میں نے شوخ کو

پھر لمحہ نازنیں نے وہ تصویر کر لیا

سانسوں کے ساتھ دھڑکنیں بھی تیز تیز تھیں

اور بے خودی نے پھر ہمیں تسخیر کر لیا

کیف و سرور چھا گیا جو تن کی آنچ سے

ہاتھوں میں اس نے ہاتھ کو زنجیر کر لیا

آتا ہے اب خیال کہ بیٹھے بٹھائے کیوں

دونوں نے گھر یہ ریت کا تعمیر کر لیا

شہرِ سخن نے پھر کیا لہجہ مجھے عطا

جب یاد شعر داغ و جگر میر کر لیا

اکرام دلبر ایک ہے اپنا جہان میں

جس کی ادا نے قلب و جگر چیر کر لیا


اکرام قاسمی

No comments:

Post a Comment