کتنی صدیاں ہی پیار میں رہتے
عشق تیرے حصار میں رہتے
تیری زلفوں میں شام ہو جاتی
اک عجب سے خمار میں رہتے
کتنے دھوکے دئیے ہیں دنیا نے
کس کے ہم اعتبار میں رہتے
گر تِرا ساتھ ہم کو مل جاتا
دوستوں کے شمار میں رہتے
تم مجھے چھوڑ کر نہ جاتے تو
ہم بھی امجد! بہار میں رہتے
امجد تجوانہ
No comments:
Post a Comment