صفحات

Monday, 19 July 2021

کتنی صدیاں ہی پیار میں رہتے

 کتنی صدیاں ہی پیار میں رہتے

عشق تیرے حصار میں رہتے

تیری زلفوں میں شام ہو جاتی

اک عجب سے خمار میں رہتے

کتنے دھوکے دئیے ہیں دنیا نے

کس کے ہم اعتبار میں رہتے

گر تِرا ساتھ ہم کو مل جاتا

دوستوں کے شمار میں رہتے

تم مجھے چھوڑ کر نہ جاتے تو

ہم بھی امجد! بہار میں رہتے


امجد تجوانہ

No comments:

Post a Comment