صفحات

Saturday, 24 July 2021

محبتوں کی نہایت ہی جیسے کوئی نہیں

 محبتوں کی نہایت ہی جیسے کوئی نہیں

مِرے لیے تو رعایت ہی جیسے کوئی نہیں

کئی برس سے مگن ہے وہ اپنے حال میں یوں

اسے کسی سے شکایت ہی جیسے کوئی نہیں

تمام شہر وقوعے کی طرح جیتا ہے

کسی کے دل میں روایت ہی جیسے کوئی نہیں

مجھے خلوص کی شدت جتانے آیا ہے

عدو کو تیری حمایت ہی جیسے کوئی نہیں

درِ قبول پہ اشکوں کے قافلے چپ چاپ

کھڑے ہوئے ہیں کہ غایت ہی جیسے کوئی نہیں

گزر رہی ہے درختوں سے منہ چھپائے ہوئے

ندی کے پاس حکایت ہی جیسے کوئی نہیں

سفر کو ایسے حمائل کیے ہوئے ہے دل

حضر کے باب میں آیت ہی جیسے کوئی نہیں

تہی شعور سمجھتے ہیں کم نصیب مجھے

تِری جدائی عنایت ہی جیسے کوئی نہیں


رفاقت راضی

No comments:

Post a Comment