صفحات

Saturday, 3 July 2021

نہ پھول لاتا ہے تازہ نہ گال کھینچتا ہے

 نہ پھول لاتا ہے تازہ نہ گال کھینچتا ہے

وہ مجھ پہ روتا ہے اور میرے بال کھینچتا ہے

پرند چیخ کے اڑتے ہیں میرے جانے پر

کوئی تو ہے جو درختوں کی شال کھینچتا ہے

یہ روشنی تو مِری آنکھ میں اترتی ہے

یہ آئینہ تو مِرے خد و خال کھینچتا ہے

میں مطمئن ہوں مجھے گنگنائے گا اک دن

ابھی وہ راگ بناتا ہے، تال کھینچتا ہے

خیالِ یار تو کون و مکاں کی بات ہوئی

کہیں جنوب کہیں پر شمال کھینچتا ہے

میں جن کے ساتھ ہنسا ہوں وہ اب بھی خوش ہیں کیا

میں رو پڑوں تو مجھے یہ سوال کھینچتا ہے

میں جس کے پاس دعا کی سبیل لاتا ہوں

وہ میرے گرد حصارِ زوال کھینچتا ہے

کہیں کہیں تو میں خود بھی اداس ہوتا ہوں

کبھی کبھی تو تمہارا ملال کھینچتا ہے


فرازاحمد علوی

No comments:

Post a Comment