نہ پھول لاتا ہے تازہ نہ گال کھینچتا ہے
وہ مجھ پہ روتا ہے اور میرے بال کھینچتا ہے
پرند چیخ کے اڑتے ہیں میرے جانے پر
کوئی تو ہے جو درختوں کی شال کھینچتا ہے
یہ روشنی تو مِری آنکھ میں اترتی ہے
یہ آئینہ تو مِرے خد و خال کھینچتا ہے
میں مطمئن ہوں مجھے گنگنائے گا اک دن
ابھی وہ راگ بناتا ہے، تال کھینچتا ہے
خیالِ یار تو کون و مکاں کی بات ہوئی
کہیں جنوب کہیں پر شمال کھینچتا ہے
میں جن کے ساتھ ہنسا ہوں وہ اب بھی خوش ہیں کیا
میں رو پڑوں تو مجھے یہ سوال کھینچتا ہے
میں جس کے پاس دعا کی سبیل لاتا ہوں
وہ میرے گرد حصارِ زوال کھینچتا ہے
کہیں کہیں تو میں خود بھی اداس ہوتا ہوں
کبھی کبھی تو تمہارا ملال کھینچتا ہے
فرازاحمد علوی
No comments:
Post a Comment