صفحات

Saturday, 3 July 2021

بار ہا تجھ کو منانے سے رہا جا چلی جا

 بار ہا تجھ کو منانے سے رہا، جا چلی جا 

دل تِرے ناز اٹھانے سے رہا، جا چلی جا 

اپنے ہی شوق سے آتی ہے تو آ، بسم اللہ 

میں تو اب لوٹ کے آنے سے رہا، جا چلی جا

اتنا بدنام ہوا تیرے لیے دنیا میں

اب تو میں نام کمانے سے رہا، جا چلی جا

جو غزل تجھ پہ کہی تھی وہ جلا دی میں نے

اب تجھے شعر سنانے سے رہا، جا چلی جا

سر کو غالب کی طرح سنگ سے پھوڑا عرضی

سر تِرے در پہ جھکانے سے رہا، جا چلی جا


عرباض عرضی

No comments:

Post a Comment