صفحات

Saturday, 24 July 2021

ادب ہی اٹھ گیا جب زندگی سے

 ادب ہی اُٹھ گیا جب زندگی سے

ملے گا کیا بَھلا پھر شاعری سے

انا نے سب کو اندھا کر دیا ہے

کوئی ملتا نہیں ہے عاجزی سے

یہ کیا ماحول ہے شہرِ وفا کا

نہیں ہے مطمئن کوئی کسی سے

کسی پر شہد کی نہریں نچھاور

کوئی محروم ہے گُڑ کی ڈَلی سے

کوئی دریا اٹھائے پھر رہا ہے

کوئی جاں ہار بیٹھا تشنگی سے

یہ کس نے توڑ دی قندیلِ الفت

یہ کس کو دشمنی تھی روشنی سے


ثمریاب ثمر

ثمر سہارنپوری

No comments:

Post a Comment