عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
حسین سرخرو
ہوائے جانکاہ کے بگولے
چراغ سے تابناک چہرے بجھا چکے ہیں
مسافرانِ رہِ وفا، لٹ لٹا چکے ہیں
اور اب فقط تُو
زمین کے اس شفق کدے میں
ستارۂ صبح کی طرح
روشنی کا پرچم لیے کھڑا ہے
یہ ایک منظر نہیں ہے
ایک داستاں کا حصہ نہیں ہے
ایک واقعہ نہیں ہے
یہیں سے تاریخ
اپنے تازہ سفر کا آغاز کر رہی ہے
یہیں سے انسانیت
نئی رفعتوں کو پرواز کر رہی ہے
میں آج اس کربلا میں
بے آبرو، نِگوں سر
شکست خوردہ خجل کھڑا ہوں
جہاں سے میرا عظیم ہادی
حسینٔ کل سرخرو گیا ہے
احمد فراز
No comments:
Post a Comment