انا کے دشت میں نوبت یہی تو آنی تھی
میں اپنے زعم میں راجہ وہ ایک رانی تھی
تھے ہم لکھے ہوئے کردار اک فسانے کے
لکھی تھی زیست ازل سے، ہمیں بِتانی تھی
پرندے چونچ سے چونچیں ملاتے ساون میں
تِری مِری بھی بس اتنی ہی کچھ کہانی تھی
انا کے زعم میں رہ کر نہیں ہے ملتا کچھ
یہ بات کان میں جا کر اسے بتانی تھی
نہ یار تھا نہ کہیں بارشوں کا موسم تھا
حنیف یاد ہی سوچوں میں بس پرانی تھی
حنیف دیپ
No comments:
Post a Comment