صفحات

Friday, 20 August 2021

میں حیران تھا منظر کی حیرانی پر

 میں حیران تھا منظر کی حیرانی پر

پھول کھلے تھے بہتے ہوئے جب پانی پر

میں نے تیرا نام لکھا جب تاروں پر 

چاند ہنسا تھا میری اس نادانی پر 

یاد کرو جس رات اکٹھے بیٹھے تھے

گھنٹوں بات چلی تھی رات کی رانی پر

دیکھے ہیں کچھ دیکھے بھالے لوگ یہاں

کس نے گھر آباد کیا ویرانی پر

میں نے اک سجدے میں رات گزاری ہے

یوں ہی نہیں یہ چاند بنا پیشانی پر

 

احسان گھمن

No comments:

Post a Comment