صفحات

Sunday, 1 August 2021

غموں کی دھوپ کڑی دوپہر سے گزرے ہیں

 غموں کی دھوپ کڑی دوپہر سے گزرے ہیں

تمام عمر جھلستی ڈگر سے گزرے ہیں

ہماری پلکوں سے ٹپکے نہ کیوں گراں خوابی

فرازِ شب سے طلوعِ سحر سے گزرے ہیں

عجیب بات ہے گھر کا نشاں نہیں ملتا

ہزار بار انہی دیوار و در سے گزرے ہیں

کبھی سکوں ہے کبھی اضطراب کا عالم

عجیب کیفیت خیر و شر سے گزرے ہیں

بھروسہ کون کرے اب صدائے صحرا کا

مثالِ گرد اسی رہ گزر سے گزرے ہیں


محب کوثر

No comments:

Post a Comment