صفحات

Friday, 13 August 2021

کوئی آئے گا بہ ہر حال ضرور آئے گا

 یقین


چاپ قدموں کی سنو رات کے تارے نہ گنو

کوئی آئے گا بہ ہر حال ضرور آئے گا

اپنی آنکھوں میں چھپائے ہوئے سپنے کل کے

لے کے تابندہ نگاہوں کا غرور آئے گا

یاس و حرماں کے اندھیروں میں ستارے بھر دو

دل کے خوابیدہ دریچوں سے کہو آنکھ ملیں

بادِ صرصر سے کہو جا کے چلے اور کہیں

خوابِ فردا کے در و بام پہ کچھ دِیپ جلیں

لے کے آکاش پہ آتی ہے کسے کاہکشاں

چاند ہے یا کسی کمسن کے خد و خال کا نور

یا کھلی زلف کو بکھرائے ہوئے رات کے وقت

رقص فرما ہے کسی جنت شاداب کی حور

اوڑھ کر چادرِ سیماب کوئی زہرہ جمال

جگمگاتے ہوئے تاروں سے اترتی ہے ضرور

گا کے دھرتی کی نگاہوں میں خماریں نغمے

دے کے آواز دبے پاؤں گزرتی ہے ضرور

چاپ قدموں کی سنو رات کے تارے نہ گنو

کوئی آئے گا بہ ہر حال ضرور آئے گا


فرید عشرتی

No comments:

Post a Comment