رنج دل سے نکل گئے سارے
ایسی چاہت سے آ ملے سارے
ڈھل گئی رات، اٹھ چکی محفل
اب تم آئے ہو جب گئے سارے
نام اس کا ہے یا کوئی خوشبو؟
بام و در تک مہک اٹھے سارے
کیسے پلٹوں؟ کہ میری رہ تکتے
کھو چکے ہوں گے راستے سارے
یہ تو دیکھیں کہ کتنا چاہتے ہیں
چاہنے والے آپ کے سارے
میں تو سب کو بُھلا چکا تھا مگر
یاد کرنے لگے مجھے سارے
صرف میری مخالفت کے سبب
ایک آواز ہو گئے سارے
زندگی کا نہیں کوئی ضامن
گھات میں ہوں گے حادثے سارے
زندگی مہرباں بھی ہوتی ہے
لوگ ہوتے نہیں بُرے سارے
عمر بھر جو ملے خدا بن کر
واہموں کی دُکان تھے سارے
پُھول جتنے بھرے ہوں شاخوں پہ
ٹُوٹ جاتے ہیں شاخ سے سارے
ظلم یہ تھا کہ میرے یہ قاتل
نام لیوا خدا کے تھے سارے
شہسواروں میں پھر کوئی نہ اُٹھا
قتل گاہوں میں جل بُجھے سارے
وہ جو نکلے تھے لانے تبدیلی
توڑ کر خواب گھر گئے سارے
ٹَل ہی جاتے ہیں ہجرِ یار کے دن
خوف ہوتے ہیں رات کے سارے
میری آنکھوں پہ اپنے ہاتھ رکھو
ان سے لے جاؤ رت جگے سارے
رامش عثمانی
No comments:
Post a Comment