ہم آرزو کا چراغ پھر سے جلا بھی لیں گے تو کیا کریں گے
شکستہ ہے اب مکان دل کا، سجا بھی لیں گے تو کیا کریں گے
سوائے ویرانیوں کےاپنے اجاڑ گھر میں تو کچھ نہیں ہے
اسے یہاں ہم کسی بہانے بُلا بھی لیں گے تو کیا کریں گے
گزرنے والی ہے رات غم کی، سحر کی منزل قریب تر ہے
اب آندھیوں سے چراغ اپنا بچا بھی لیں گے تو کیا کریں گے
ہمارے ہاتھوں پہ ہیں مقدرکی جو لکیریں وہی رہیں گی
ہم اپنے چہرے پہ اس کا چہرہ سجا بھی لیں گے تو کیا کریں گے
لکھی ہیں اختر شماریاں ہی ہماری قسمت میں جانے کب سے
ہم اسکی آنکھوں سے خواب اسکے چُرا بھی لیں گے تو کیا کریں گے
ہمارے چہرے سے آشکارا ہمارے دل کی کہانیاں ہیں
ہم اپنا رازِ وفا کسی سے چھپا بھی لیں گے تو کیا کریں گے
بلندیوں پہ پہنچ کے شاہد نصیب اس کا یہی زمیں ہے
ہم آسماں پر پتنگ اپنی اُڑا بھی لیں گے تو کیا کریں گے
حفیظ شاہد
No comments:
Post a Comment