صفحات

Thursday, 19 August 2021

ڈھونڈے ڈھونڈے نہ جہاں سایہ دیوار ملے

 ڈھونڈے ڈھونڈے نہ جہاں سایہ دیوار ملے

کیا ہو اس شہر میں گر دھوپ کا آزار ملے

موت کا خوف نہیں ہے مجھے یا رب، لیکن

التجا اتنی ہے تجھ سے کہ بس اک بار ملے

بال و پر ہی نہ تھے ان وقت كے ماروں كے پاس

ورنہ اڑنے کو پرندے کئی تیار ملے

اب نہ منزل کی طلب ہے نہ کسی ساتھی کی

آپ اس موڑ پہ آ کر ہمیں بے کار ملے

یہ سنا تھا کہ ہیں معبود صنم اور خدا

پر یہاں ہم کو فقط زر كے پرستار ملے

اس سے ہم نفرتِ دنیا کا گلہ کیا کرتے

آئینے میں بھی ہمیں بغض كے آثار ملے

زیست کو کاٹ رہے ہیں جو سزا کی مانند

عابد ایسے بھی ہمیں چند گنہگار ملے


عرفان عابد

No comments:

Post a Comment