صفحات

Tuesday, 17 August 2021

مناتا ہوں مگر ویسے ہی بس روٹھے ہوئے سے ہیں

 مناتا ہوں مگر ویسے ہی بس روٹھے ہوئے سے ہیں

وہ شاید ترکِ الفت کی قسم کھائے ہوئے سے ہیں

تمہارے ہجر کے صدموں نے حالت یہ بنا دی ہے

نہ ہم سوئے ہوئے سے ہیں نہ ہم جاگے ہوئے سے ہیں

بس اتنے سے سمجھ لو کوئے جاناں کے فضائل تم

گُلوں کے مثلِ ہی کانٹے وہاں مہکے ہوئے سے ہیں

اے میرے صبر! زندہ باد، اے میری پیاس! زندہ باد

جو پیمانے کہ خالی تھے وہ سب چھلکے ہوئے سے ہیں

مِری پرواز پہلے جیسی رفعت کیوں نہیں پاتی

ذرا دیکھو تو کچھ پر کیا مِرے کترے ہوئے سے ہیں

بظاہر اور بہ باطن میں یہی اک فرق ہے صاحب

وہ میرے ساتھ میں تو ہیں مگر بچھڑے ہوئے سے ہیں

تِرے دل میں بھی کیا چاہت کے نرم احساس جاگ اُٹھے

تِرے انداز آخر آج کیوں بدلے ہوئے سے ہیں

ضرور ان سے جنوں بردوش دیوانے گئے ہوں گے

پہاڑوں اور چٹانوں پہ جو رستے ہوئے سے ہیں

 

ذکی طارق

No comments:

Post a Comment