ادائیں شوخ ہیں اس بار ان ہواؤں کی
کہیں تو دُھول اڑی ہے تمہارے پاؤں کی
یہ رعب داب نہیں راس خاک زادوں کو
بتا رہی ہے یہ تاریخ سُورماؤں کی
زرا دباؤ بڑھے تو جڑیں اُکھڑ جائیں
زمین ریت بھری ہے تمہارے گاؤں کی
بس اک نظر سے کئی چاند جگمگائیں گے
اے آفتاب! طلب ہے تِری شعاعوں کی
وفا شعار فقط رنج ہی اٹھاتے ہیں
سو جان لو کہ یہ دنیا ہے بے وفاؤں کی
یہ دشت جانتا ہے دھوپ میں جلا ہوا دشت
وہی بتائے گا جو اہمیت ہے چھاؤں کی
تہذیب حسین
No comments:
Post a Comment