عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
صبح عاشور کا منظر
جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
جلوہ کیا سحر کے رخِ بے حجاب نے
دیکھا سوئے فلک شہ گردوں رکاب نے
مڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نے
آخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرو
اٹھو فریضۂ سحری کو ادا کرو
ہاں غازیو یہ دن ہے جدال و قتال کا
یاں خوں بہے گا آج محمدﷺ کی آل کا
چہرہ خوشی سے سرخ ہے زہراؑ کے لال کا
گزری شبِ فراق، دن آیا وصال کا
ہم وہ ہیں غم کریں گے ملک جن کے واسطے
راتیں تڑپ کے کاٹی ہیں اس دن کے واسطے
یہ صبح ہے وہ صبح مبارک ہے جس کی شام
یاں سے ہوا جو کوچ تو ہے خلد میں مقام
کوثر پہ آبرو سے پہونچ جائیں تشنہ کام
لکھے خدا نماز گزاروں میں سب کے نام
سب ہیں وحیدِ عصر یہ غل چار سو اٹھے
دنیا سے جو شہید اٹھے سرخرو اٹھے
یہ سن کے بستروں سے اٹھے وہ خدا شناس
اک اک نے زیبِ جسم کیا فاخرہ لباس
شانے محاسنوں میں کیے سب نے بے ہراس
باندھے عمامہ آئے امامِ زماں کے پاس
رنگیں عبائیں دوش پہ کمریں کسے ہوے
مشک و زباد و عطر میں کپڑے بسے ہوئے
سوکھے بسوں پہ حمدِ الٰہی رخوں پہ نور
خوف و ہراس رنج و کدورت دلوں سے دور
فیاض حق شناس اولو العزم ذی شعور
خوش فکر و بزلہ سنج و ہنر پرور و غیور
کانوں کو حسنِ صوت سے حظ برملا ملے
باتوں میں وہ نمک کہ دلوں کو مزا ملے
خیمے سے نکلے شہ کے عزیزاں خوش خصال
جن میں کئی تھے حضرتِ خیر النسا کے لال
قاسم سا گلبدن علی اکبرؑ سا خوش جمال
اک جا عقیلؑ و مسلمؑ و جعفرؑ کے نونہال
سب کے رخوں کا نور سپہر بریں پہ تھا
اٹھارہ آفتابوں کا غنچہ زمیں پہ تھا
یاد آ گئے علیؑ نظر آئی جو ذوالفقار
قبضے کو چوم کر شہِ دیں روئے زار زار
تولی جو لے کے ہاتھ میں شمشیرِ آبدار
شوکت نے دی صدا کہ تری شان کے نثار
فتح و ظفر قریب ہو نصرت قریب ہو
زیب اس کی تجھ کو ضرب عدو کو نصیب ہو
باندھی کمر سے تیغ جو زہراؑ کے لال نے
پھاڑا فلک پہ اپنا گریباں ہلال نے
دستانے پہنے سرورِ قدسی خصال نے
معراج پائی دوش پہ حمزہ کی ڈھال نے
رتبہ بلند تھا کہ سعادت نشان تھی
ساری سپر میں مہر نبوت کی شان تھی
سیراب چھپتے پھرتے تھے پیاسے کی جنگ سے
چلتی تھی ایک تیغِ علی لاکھ رنگ سے
چمکی جو فرق پر تو نکل آئی تنگ سے
رکتی تھی نے سپر سے نہ آہن نہ سنگ سے
خالق نے منہ دیا تھا عجب آب و تاب کا
خود اس کے سامنے تھا پھپھولا حباب کا
میر انیس
No comments:
Post a Comment