صفحات

Saturday, 21 August 2021

گہرا سکوت ذہن کو بے حال کر گیا

 گہرا سکوت ذہن کو بے حال کر گیا

سوچوں کے پھول پھول کو پامال کر گیا

سورج نے اپنی آنچ کو واپس بلا لیا

لیکن مِرے لہو کو وہ سیال کر گیا

کیا فیصلہ دیا ہے عدالت نے چھوڑئیے

مجرم تو اپنے جرم کا اقبال کر گیا

جو لوگ دور تھے وہ بہت دور ہو گئے

یہ تازہ حادثہ بھی گیا سال کر گیا

سہمے ہوئے ہیں چاروں طرف روشنی کے عکس

اک ہاتھ آ کے سرخ کئی گال کر گیا

میں دو قدم چلا تھا کہ ڈھلوان آ گئی

افضل! سفر تو میرا بُرا حال کر گیا


افضل منہاس

No comments:

Post a Comment