صفحات

Saturday, 21 August 2021

رہزنی ہے سر بازار تمہیں کیا معلوم

رہزنی ہے سرِ بازار تمہیں کیا معلوم

تم تو ہو قافلہ سالار تمہیں کیا معلوم

نام کس شے کا ہے آزار تمہیں کیا معلوم

زندگی گُل ہے کہ ہے خار تمہیں کیا معلوم

محو آئینہ ہو تم، تم کو خبر بھی کیوں ہو

کون کس کا ہے طلبگار تمہیں کیا معلوم

میرے ہنسنے پہ نہ جاؤ یہ مِری عادت ہے

دل پہ چلتی ہے جو تلوار تمہیں کیا معلوم

سر بازار لہو بکتا ہے،۔ فن بکتا ہے

ہاں مگر گرمئ بازار تمہیں کیا معلوم

تم نے آنکھوں میں کوئی رات کہاں کاٹی ہے

ٹوٹتے تاروں کی جھنکار تمہیں کیا معلوم

جن کو آ جاتا ہے جینے کا سلیقہ عظمت

مسکراتے ہیں سرِ دار تمہیں کیا معلوم


عظمت بھوپالی

No comments:

Post a Comment