صفحات

Wednesday, 4 August 2021

کہ شام ہوتے ترے خواب ڈھونے لگتے ہیں

 کہ شام ہوتے تِرے خواب ڈھونے لگتے ہیں

یہاں کے لوگ بہت جلد سونے لگتے ہیں

وہ بچپنے کی لُکن میٹی یاد آتی ہے

مجھے تو اچھے تِرے گھر کے کونے لگتے ہیں

ابھی جو پڑھ کے کوئی پھونکے چین آ جائے

جو چند نام ہمیں جادو ٹونے لگتے ہیں

ہمارے گاؤں میں ساری تمہاری برکت ہے

تمہارے ہونے سے سب کام ہونے لگتے ہیں

ابھی پہاڑ سے دیکھا تو یہ کھلا مجھ پر

کہ آسمان کو ہم کیوں کھلونے لگتے ہیں

عجیب دوست ہیں یہ، رشتہ دار جیسے دوست

ملیں نہ کانٹے تو باتیں چبھونے لگتے ہیں

یہ لوگ ہجر پہ ایمان لاچکے ہیں عطا

جبھی تو وصل کے موسم میں رونے لگتے ہیں


احمد عطاءاللہ

No comments:

Post a Comment