بچھڑ کے تجھ سے مجھے دکھ تو ہے ملال تو ہے
مگر یہ پیار نبھانا بھی اک کمال تو ہے
کرم سہی نہ سہی، اب تِرے ستم ہی سہی
یہی بہت ہے کہ تجھ کو مِرا خیال تو ہے
نہ چاہ کر بھی مِرا ذکر کرتے رہتے ہیں
مخالفوں میں یہ خوبی تو ہے کمال تو ہے
میں مطمئن ہوں بزرگوں سے رابطہ رکھ کر
جڑا ہوا مِرے ماضی سے میرا حال تو ہے
ضعیف باپ کا سایہ بھی کم نہیں اعجاز
محاذِ زیست میں یہ نام ایک ڈھال تو ہے
اعجاز انصاری
No comments:
Post a Comment