صفحات

Sunday, 15 August 2021

روانی غم کی جس میں تھی وہ جوہر دے دیا میں نے

 روانی غم کی جس میں تھی وہ جوہر دے دیا میں نے

غزل پیاسی تھی جذبوں کا سمندر دے دیا میں نے

جس آبادی میں بے سورج اندھیرا ہی اندھیرا تھا

اسے بھی چاندنی راتوں کا منظر دے دیا میں نے

جو مدت سے گرے تھے بے پر و بالی کی کھائی میں

اڑانوں کے لیے ان کو بھی شہ پر دے دیا میں نے

جو پلکوں پر سجا کر آس کے کچھ خواب بیٹھے تھے

انہیں ان کی تمناؤں کا مظہر دے دیا میں نے

کہو دلدار مجھ سے اور کیا اب چاہیئے تم کو

تمہارے شہر کو تہذیب کا گھر دے دیا میں نے


دلدار ہاشمی

No comments:

Post a Comment