صفحات

Sunday, 19 September 2021

خواب در خواب مرے خواب میں شامل ہوئی ہے

 خواب در خواب مِرے خواب میں شامل ہوئی ہے

خاکِ صحرا مِرے اسباب میں شامل ہوئی ہے

رقص کرتا تھا مِرا عشق، سرِ دشتِ جنوں

تھکن اس واسطے اعصاب میں شامل ہوئی ہے

راکھ ہونے لگے ہیں خواب مِری آنکھوں میں

آگ یوں خطۂ شاداب میں شامل ہوئی ہے

دِیے کی لو مِرے ہاتھوں میں دعا بننے لگی

روشنی تب مِرے محراب میں شامل ہوئی ہے

چیختے چیختے خاموش ہوا ہوں لودھی

خامشی یوں مِرے مضراب میں شامل ہوئی ہے


رفیق لودھی

No comments:

Post a Comment