صفحات

Monday, 20 September 2021

خود پسند اوج کے زینے سے اتر جاتا ہے

 خود پسند اوج کے زینے سے اُتر جاتا ہے

یہ وہ نشہ ہے جو پینے سے اتر جاتا ہے

رُخِ مزدور پہ کیا گرد کا غازہ ٹھہرے

یہ تو محنت کے پسینے سے اتر جاتا ہے

لاکھ میں بند کروں آنکھ کے دروازوں کو

دل میں وہ پھر بھی قرینے سے اتر جاتا ہے

تیرے انکار کو سنتے ہی میں اٹھ بیٹھا ہوں

جیسے اک بوجھ سا سینے سے اتر جاتا ہے

موج اس دُکھ میں کنارے کو دھکیلے ہے پرے

کیوں یہاں کوئی سفینے سے اتر جاتا ہے

ہے تِرا نام وہ منتر کہ جسے پڑھتے ہی

سانپ فوراً ہی دفینے سے اتر جاتا ہے

موت رُکتی نہیں ذیشان، مگر موت کا خوف

دوسروں کے لیے جینے سے اتر جاتا ہے


ذیشان اطہر

No comments:

Post a Comment