صفحات

Monday, 20 September 2021

تنہائیوں کی رات بڑی دور تک گئی

 تنہائیوں کی رات بڑی دُور تک گئی

چھوٹی سی ایک بات بڑی دور تک گئی

ہم تو ہر امتحاں میں ہوئے سرخرو مگر

مجبورئ حیات بڑی دور تک گئی

تشنہ لبی تو زیست کا اوجِ کمال تھی

گو کہ لبِ فرات بڑی دور تک گئی۔

واعظ تمہاری جنت و دوزخ کی خیر ہو

رِندوں کی کائنات بڑی دور تک گئی

بچھڑے ہر ایک موڑ پہ ساتھی بہت مگر

اک یاد میرے سات بڑی دور تک گئی

ہم نے سبھی کو چاہا مقرر حدود میں

لیکن تمہاری ذات بڑی دور تک گئی


شہزاد واثق

No comments:

Post a Comment