صفحات

Thursday, 2 September 2021

قیس کا بھی کہیں ٹھکانا ہو

قیس کا بھی کہیں ٹھکانا ہو

تھوڑا پانی ہو تھوڑا دانہ ہو

اپنا پت جھڑ چھپا کے سینے میں

باغ دنیا میں آنا جانا ہو

سرد ہوں گرم ہوں ہوائیں ہوں

موسم دل ذرا سہانا ہو

ایک آنگن ہو دو منڈیریں ہوں

اور تھوڑا سا چہچہانا ہو

اک تصور ذرا سا لمس ہنر

تیرا پیکر ہو جو بنانا ہو


اوم پربھاکر

پنڈت اوم نارائن اوستھی

No comments:

Post a Comment