صفحات

Monday, 20 September 2021

بھلے کوئی کتنی بھی اچھی بنائے

 بھلے کوئی کتنی بھی اچھی بنائے

مگر دل کو بھائے، تمھاری ہی چائے

تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو

ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگائے

یہ ٹھنڈی ہوائیں، بے تابی بڑھائیں

ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آئے

یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر

بھلا کوئی تنہا یہ کیسے بیتائے

تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے

اک کپ اپنے پن کا تو پھر سے پلائے

ہے اتنی سی حسرت، رہے باقی قربت

یوں سنگ چائے پیتے عمر بیت جائے


طارق اقبال حاوی

No comments:

Post a Comment