صفحات

Wednesday, 22 September 2021

فاصلے اور بڑھا دینے کی کوشش نہیں کی

فاصلے اور بڑھا دینے کی کوشش نہیں کی

صرف چاہا تھا اُسے، اُس کی پرستش نہیں کی

اُس نے جاتے ہوئے کھائی تھی انا کی سوگندھ

پھر تو اشکوں نے بھی کچھ میری سفارش نہیں کی

ہیر کی قبر پہ بھی ہجر کا سایہ ہی رہا

میرے گھر پر بھی کبھی ابر نے بارش نہیں کی

جانے کب سے نہیں مچلا، نہیں تڑپا مِرا دل

جانے کب سے مِرے دِل نے کوئی خواہش نہیں کی

رحم مانگا نہ زمانے کے شہنشاہوں سے

کاٹ کر دے دی زباں ہم نے گزارش نہیں کی

وہ تو شعروں میں تخیل نے کھلائے تھے گلاب

ورنہ برہم نے تو زخموں کی نمائش نہیں کی


بہزاد برہم

No comments:

Post a Comment